بیرول 20/اپریل (ایس او نیوز/شارب ضیاء) ملک کی مشہور و معروف بافیض دینی درسگاہ مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ کے عظیم الشان اجلاس دستار بندی و تحفظ شریعت کانفرنس کے اختتام پر یہاں جاری پریس بیان میں اجلاس کی تفصیل بتاتے ہوئے جید عالم دین صدر مرکزی جمعیت علماء سیمانچل بہار حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ نے کہا کہ عظیم الشان اجلاس دستار بندی و تحفظ شریعت کانفرنس کا آغاز قاری محمد نورالدین چمپارنی استاد مدرسہ رحمانیہ کی تلاوت قرآن کریم اور شاعر اسلام مولانا منظر قاسمی رحمانی کی نعت پاک سے ہوا جبکہ خطبہ استقبالیہ نمونہ سلف حضرت مولانا محمد سعداللہ صدیقی ہرسنگھ پوری مہتمم دارالعلوم مدرسہ رحمانیہ سوپول نے پیش کیا۔
بعد ازاں تقریبا پچاس ہزار سے زائد فرزندان توحید کے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ دارالقران سرخیز گجرات کے استاد حدیث حضرت مولانا مفتی محمد ٹمیرالدین صاحب، قاضی شریعت حضرت مولانا محمد قاسم صاحب مظفر پوری، حضرت مولانا محمد شمشاد عالم رحمانی قاسمی استاد دارالعلوم دیوبند وقف نے مدرسہ رحمانیہ سوپول کی خدمات کو سراہتے ہوئے موجودہ وقت میں طلبہ کی کردار سازی اور حالات کے مطابق تیار کرنے پر زور دیا مسلمانوں کو شرعی قوانین پر عمل کرنے اور غیر اسلامی رسم و رواج ترک کرنے ساتھ ہی مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعے چلائی جا رہی تحریک کو مزید تقویت دینے کی اپیل کی دارالعلوم دیوبند وقف کے مہتمم اور خانوادہ قاسمی کے چشم و چراغ حضرت مولانا سفیان احمد قاسمی نے فرمایا کہ مدرسہ رحمانیہ سوپول اکر بڑی مسرت ہوئی یہ ملک کا قدیم اور مشہور ادارہ ہے مجھے خوشی ہے کہ آج 66/ علماء و حفاظ کرام کی دستار بندی ہورہی ہے انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ اج حالات ایسے ہیں کہ اگر آپ شریعت پر عمل نہیں کریں گے تو دو طرفہ مصیبت آئے گی مولانا حسین احمد رحمانی اور مولانا مفتی سہیل احمد قاسمی امارت شرعیہ نے بھی خطاب کرتے ہوئے اتحاد ملت پر زور دیا جبکہ صدر اجلاس ،مشہور مذہبی رہنما اور روحانی قائد مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی زیب سجادہ خانقاہ رحمانی مونگیر و جنرل سیکرٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا مدرسہ آپ کے دین ایمان کی جگہ ہے یہ آپ کی دنیا اور آخرت ہے علماء اور مدرسوں پر غلط تبصرہ کرنے سے گریزکریں، شادی بیاہ اور نکاح میں فضول خرچی، کھانے کی فرمائش اور بارات کے لمبے قافلے کا برااثر بعد نکاح ہونے والی اولاد پر اندھا، لنگڑا، لولہا کی شکل میں پڑتا ہے تو کبھی بلا وجہ یا معمولی سی بات پر بیوی کو مارنے پیٹنے سے شوہر بھی فالج، لقوہ جیسی دوسری مہلک بیماریوں میں مبتلا ہوجاتاہے۔اس لیے ضروری ہے کہ شادی میں فضولیات سے بچائے جائے اورنکاح کی سنت کوآسان بنایاجائے۔ ممتازماہر قانون اور بورڈ کے جنرل سیکرٹری مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولاناسید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی نے ملک کی موجودہ صورتحال اور نکاح وطلاق کے خلاف اسلامی شریعت کو بدنام کرنے کی مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے مسلمانوں کو شرعی قوانین پر عمل کرنے اور شریعت پر آنے والے خطرات سے آگاہ کیا اس موقع پر دنیائے صحافت پر ابھرتے ہوئے نوجوان صحافی جناب مولانا نورالسلام ندوی جمالپوری کی مرتب کردہ ضخیم کتاب "خطبات ولی "کا رسم اجراء مہتمم دارالعلوم دیوبند وقف حضرت مولانا سفیان احمد قاسمی، بزرگ عالم دین حضرت مولانا سید محمد ابو اختر صاحب قاسمی،حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ کے دست مبارک سے ہوا اجلاس سے ریاستی وزیر ڈاکٹر عبدالغفور صاحب اور مقامی ہر دل عزیز سیاسی و سماجی رہنما جناب ڈاکٹر اظہار احمد صاحب سابق ایم ایل اے و چیئرمین تخمینہ کمیٹی بہار نے بھی خطاب کیا بعد ازاں صدر اجلاس حضرت امیر شریعت مفکر اسلام مولانا سید شاہ محمد ولی صاحب رحمانی دامت برکاتہم کی رقت آمیز دعاوں پر اجلاس قبل نماز ظہر ختم ہوا اس موقع پر جاری پریس بیان جید عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد رضوان عالم قاسمی استاد مدرسہ رحمانیہ سوپول دربھنگہ نے کہا کہ مدرسہ رحمانیہ کا اجلاس بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کے دور رس اور سود مند اثرات مرتب ہوں گے ۔